امن کیا ہے؟

Dove & Gun

امن کیا ہے ؟

امن … امن … امن ہر زبان پر آج امن کی اس فاختہ کی چاہت ہے تو ہر با شعور قلب و ذھن امن کا ہی متلاشی ،جیسے یہ کوئی ایسا کھویا ہوا خزانہ ہو جو ڈھونڈے سے مل جائے گا . اس کھوے ہوے امن کی تلاش کرنے کے لئے اب تک دنیا بھر میں بڑی سے بڑی تنظیمیں وجود میں آ چکی ہیں تو امن کے بین الاقوامی ایوارڈز تک متعارف کروائے جا چکے ہیں. اتنی تلاش کے باوجود بھی حالات ہیں کہ دن بدن بگڑتے ہی چلے جا رہے ہیں اور یہ امن نامی قاروں کا خزانہ آج تک نا پید ہی ہے . صرف اس لئے کہ جس امن کی فاختہ کی تلاش میں کل انسانیت در در بھٹک رہی ہے وہ ڈھونڈی نہیں جاتی بلکہ خود ہی اپنی کاوشوں سے پیدا کی جاتی .

130125162522_india-pakistan-1

امن آخر ہے کیا ؟ کیا امن کا وجود صرف جنگ و جدل سے ہی خطرے میں پڑتا ہے، اور کیا صرف جنگوں کے نہ ہونے کو ہی امن کہنا مناسب ہے ؟ اگر جنگ کا نہ ہونا ہی امن ہے تو پھر عراق اور افغانستان کے علاوہ دنیا میں جہاں جہاں جنگ نہیں وہاں پر تو امن ہی ہونا چاہیے تھا. اور پاکستان میں بھی تو ایسی کوئی جنگ نہیں تو اصولا وہاں پر بھی امن ہی امن ہونا چاہیے تھا …. مگر نہیں، تو پھر یہ کون سی جنگ ہے جس کا نہ ہونا حقیقی امن کی نشاندہی کرتا ہے. یہی وہ موڑ ہے جس پر آج ہم سب ہی مغالطے میں ہیں …امن یقینا جنگ کا نہ ہونا ہی ہے لیکن ایک مخصوص جنگ کا. اور وہ جنگ انسان کے دل اور دماغ کی درمیانی جنگ ہے . انسان کے وجود کی یہ دو بڑی طاقتیں جب اپس میں میل نہ کھائیں، جب دل اور دماغ دونوں کا رخ مخالف سمت پر ہو تو یہ ایک انفرادی شخصی جنگ کا روپ دھار لیتی ہیں ، اور شخصی بےسکونی کا سبب بن جاتی ہے. معاشرتی بد رسومات تعصب سے بھر پور اور عزت نفس سے عاری گھرانے، وہاں پروان چڑھنے والی انسانی شخصیتوں میں ایک ایسا خلا پیدا کر دیتے ہیں ،جو کبھی ذہنی دباؤ کی شکل میں تو کبھی شخصیت میں طرح طرح کی نفسیاتی کمی و بیشی کی صورت میں نومودار ہوتا ہے. جو دل و دماغ کی مستقل جنگ کی شکل اختیار کر کے اس شخصیت کے ادھورے پن کے ساتھ ساتھ معاشرے کے لئے بھی مضر ثابت ہوتا ہے .

140531230556_pakistan_week_976x549_afp

اور ایسی ادھوری شخصیتیں خود تو بے سکوں ہوتی ہی ہیں مگر ساتھ ساتھ اپنے ارد گرد کا ماحول بھی خراب کرتی ہیں . اور پھر ایسی زہر آلود گھریلو فضائیں ہی ہیں، جو ملک و قوم کے لئے امن کے دشمن ایسے خطرناک سپاہی مہیا کرنے کا سبب بنتی ہیں . جو آگے چل کر اپنے گھر معاشرے ملک و قوم کو سوائے بد امنی اور اذیت کے اور کچھ بھی تو نہیں دے سکتے. کہ جو خود ہی بے سکون ہو وہ دوسرے کو سکون کیونکر دے سکے گا .. یعنی کہ امن کی تلاش ملکوں ملکوں اور جنگلوں بیابانوں میں نہیں بلکہ ہر انسان کو اپنے ہی وجود کے اندر خود ہی کرنی پڑتی ہے . اور جس جس معاشرے میں بھی ہمارے پاکستانی معاشرے کی طرح ہر طرف بد امنی ہی بد امنی کا دور دورہ ہو ،تو وہاں یہ حقیقت سمجھنی قطعا مشکل نہیں کہ امن گھر سے نکلتا ہے کے بر عکس ،اس معاشرے میں گھریلو فضاؤں کی کثرت زہر آلود ہے . جو ایک عرصۂ دراز سے نسل در نسل گھریلو سطح پر تیار کئے گئے تربیت یافتہ یہ چھوٹے چھوٹے دہشت گرد ایک کثرت سے پروان چڑھانے میں سر گرم عمل ہیں .

بظاھر یہ جنگ و جدل ہی ہمیں امن کی قاتل نظر آتی ہے اور قصور وار بڑی طاقتیں … مگر نظر کا یہ دھوکہ بھی اس ایٹم بم کی حقیقت کی طرح ہی ہے، جس کی تباہی و بربادی تو ہر نظر آسانی سے دیکھ لیتی ہے لیکن پس پردہ وہ ایٹم یعنی کہ چھوٹے سے چھوٹا زرہ جو اتنے بڑے پیمانے کی تباہی کا موجب بنتا ہے اسے نظر انداز کر دیا جاتا ہے . اور یہ بد امنی کا شکار گھریلو فضائیں ہی تو ہیں جو امن دشمن یہ ایٹم پروان چڑھا رہی ہیں… کہ آج ہم میں سے ہر کوئی خود کو دوسرے سے بہتر مسلمان سمجھتا اور اس پر فخر بھی کرتا ہے روحانیت کے تاج سروں پر سجائے ہم سبھی خود کو مومن تو دوسرے کو کافر قرار دینے میں لمحہ نہیں لگاتے جبکہ مذہب اسلام کی اساس محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے اقوال و سنت کے مطابق تو کسی انسان کے مومن ہونے کی پہچان اسکی عبادت گزاری ہر گز نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس کے اخلاق کردار اور حسن سلوک کی گواہی خود اس کے بیوی اور بچے دیں . اور آج ہم میں سے کتنے مومنیت کے اس معیار پر پورا اترتے ہیں اس کی گواہی بھی ایک بھر پور تھپڑ کی صورت میں خود ہمارے اپنے ہی معاشرے کی بد امنی دے رہی ہے .

تحریر: عفاف اظہر